تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَلَّایَسْجُدُوْالِلّٰهِالَّذِیْیُخْرِجُالْخَبْءَفِیالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ ﴾”وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔“ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَیَعْلَمُمَاتُخْفُوْنَوَمَاتُعْلِنُوْنَ ﴾”اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال: {ألاَّ}؛ أي: هلاَّ {يسجدوا لله الذي يُخْرِجُ الخَبْءَ في السمواتِ والأرض}؛ أي: يعلم الخفي الخبيء في أقطار السماوات وأنحاء الأرض من صغارِ المخلوقات وبذور النباتات وخفايا الصدور، ويخرج خَبْءَ الأرض والسماء بإنزال المطر وإنبات النبات، ويخرِجُ خَبْءَ الأرض عند النفخ في الصور وإخراج الأموات من الأرض ليجازِيَهم بأعمالهم، {ويعلم ما تُخفون وما تُعْلِنون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔