تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَجَحَدُوْابِهَا ﴾”اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔“ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسْتَیْقَنَتْهَاۤاَنْفُسُهُمْ ﴾”حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔“ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلْمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانْظُرْؔكَیْفَكَانَعَاقِبَةُالْمُفْسِدِیْنَ ﴾”پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وجحدوا بها}؛ أي: كفروا بآيات الله جاحدين لها، {واسْتَيْقَنَتْها أنفسُهم}؛ أي: ليس جحدهم مستنداً إلى الشك والريبِ، وإنَّما جحدُهم مع علمهم وتيقُّنهم بصحَّتها {ظلماً}: منهم لحقِّ ربهم ولأنفسهم، {وعلوًّا}: على الحقِّ وعلى العباد وعلى الانقياد للرسل. {فانْظُرْ كيفَ كان عاقبةُ المفسدين}: أسوأ عاقبة؛ دمَّرهم الله، وغرَّقَهم في البحر، وأخزاهم، وأورث مساكِنَهم المستضعفين من عباده.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔