تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 12

وَ اَدۡخِلۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ ۟ فِیۡ تِسۡعِ اٰیٰتٍ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ قَوۡمِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۱۲﴾
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال، کسی عیب کے بغیر (چمکتا ہوا) سفید نکلے گا، نو نشانیوں میں، فرعون اور اس کی قوم کی طرف۔ بلاشبہ وہ نافرمان لوگ تھے۔ En
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا۔ (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں
En
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال، وه سفید چمکیلا ہو کر نکلے گا بغیر کسی عیب کے، تو نو نشانیاں لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جا، یقیناً وه بدکاروں کا گروه ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں: ﴿فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهٖ نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں۔ ﴿اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ بے شک وہ فاسق لوگ ہیں۔ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأدخلْ يَدَكَ في جيبِك تَخْرُجْ بيضاءَ من غير سوءٍ}: لا برصَ ولا نقصَ، بل بياضٌ يبهر الناظرين شعاعه {في تسع آياتٍ إلى فرعونَ وقومِهِ}؛ أي: هاتان الآيتان ـ انقلابُ العصا حيَّة تسعى وإخراجُ اليدِ من الجيب فتخرجُ بيضاءَ ـ في جملة تسع آياتٍ تذهبُ بها وتدعو فرعون وقومه. {إنَّهم كانوا قوماً فاسقين}: فَسَقوا بشركِهِم وعتوِّهم وعلوِّهم على عباد الله واستكبارِهِم في الأرض بغير الحقِّ.