تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 86

وَ اغۡفِرۡ لِاَبِیۡۤ اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾
اور میرے باپ کو بخش دے، یقینا وہ گمراہوں میں سے تھا۔ En
اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے
En
اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاغْ٘فِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْ٘نَ اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا (مریم:19؍47) میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰؔهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّ٘اهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰؔهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ (التوبۃ:9؍114) ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واغْفِرْ لأبي إنَّه كان من الضَّالِّينَ}: وهذا الدعاء بسبب الوعد الذي قال لأبيه: {سأستغفر لك ربِّي إنَّه كانَ بي حَفِيًّا}، قال تعالى: {وما كانَ استغفارُ إبراهيمَ لأبيهِ إلاَّ عن مَوْعِدَةٍ وَعَدَها إيَّاه فَلَمَّا تَبَيَّنَ له أنه عدوٌّ لله تبرَّأ منه إنَّ إبراهيم لأوّاهٌ حليمٌ}.