تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 8

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕوَ مَا کَانَ اَکۡثَرُ ہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ En
کچھ شک نہیں کہ اس میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں
En
بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ (یوسف:12؍103) خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ في ذلك لآيةً}: على إحياء الله الموتى بعد موتِهِم؛ كما أحيا الأرض بعد موتها، {وما كان أكثرُهُم مؤمنينَ}؛ كما قال تعالى: {وما أكثرُ الناس ولو حَرَصْتَ بمؤمنينَ}.