تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَتْبَعُوْهُمْ۠مُّشْرِقِیْنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّاتَرَآءَؔالْ٘جَمْعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَاَصْحٰؔبُمُوْسٰۤى ﴾ تو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّالَمُدْرَؔكُوْنَ﴾”ہم تو پکڑے گئے۔“﴿ قَالَ ﴾موسیٰ علیہ السلام نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾”ہرگز ایسا نہیں ہو گا“ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّمَعِیَرَبِّیْسَیَهْدِیْنِ ﴾”بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔“ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأتْبَعوهم مشرقينَ}؛ أي: اتَّبع قومُ فرعون قومَ موسى وقتَ شُروقِ الشمس، وساقوا خلفَهم مُحِثِّينَ على غيظٍ وحنقٍ قادرين، {فلما تراءى الجمعانِ}؛ أي: رأى كلٌّ منهما صاحبه، {قال أصحابُ موسى}: شَاكِينَ لموسى وحزنين: {إنَّا لَمُدْرَكونَ}. فقال موسى مثبِّتاً لهم ومخبراً لهم بوعدِ ربِّه الصادق: {كلاَّ}؛ أي: ليس الأمر كما ذكرتُم أنَّكم مُدْرَكون، {إنَّ معي ربِّي سَيَهْدِينِ}: لما فيه نجاتي ونجاتُكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔