تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 60

فَاَتۡبَعُوۡہُمۡ مُّشۡرِقِیۡنَ ﴿۶۰﴾
تو انھوں نے سورج نکلتے ان کا پیچھا کیا۔ En
تو انہوں نے سورج نکلتے (یعنی صبح کو) ان کا تعاقب کیا
En
پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَتْبَعُوْهُمْ۠ مُّشْرِقِیْنَ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الْ٘جَمْعٰنِ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصْحٰؔبُ مُوْسٰۤى تو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدْرَؔكُوْنَ ہم تو پکڑے گئے۔ ﴿ قَالَ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ہرگز ایسا نہیں ہو گا جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأتْبَعوهم مشرقينَ}؛ أي: اتَّبع قومُ فرعون قومَ موسى وقتَ شُروقِ الشمس، وساقوا خلفَهم مُحِثِّينَ على غيظٍ وحنقٍ قادرين، {فلما تراءى الجمعانِ}؛ أي: رأى كلٌّ منهما صاحبه، {قال أصحابُ موسى}: شَاكِينَ لموسى وحزنين: {إنَّا لَمُدْرَكونَ}. فقال موسى مثبِّتاً لهم ومخبراً لهم بوعدِ ربِّه الصادق: {كلاَّ}؛ أي: ليس الأمر كما ذكرتُم أنَّكم مُدْرَكون، {إنَّ معي ربِّي سَيَهْدِينِ}: لما فيه نجاتي ونجاتُكم.