تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 34

قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَہٗۤ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۴﴾
اس نے ان سرداروں سے کہا جو اس کے ارد گرد تھے، یقینا یہ تو ایک بہت ماہر فن جادو گر ہے۔ En
فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے
En
فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ فرعون نے حق اور موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ ۰۰ یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰ علیہ السلام کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ ﴿ قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَاَخَاهُ انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابْعَثْ فِی الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِیْنَ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ یَ٘اْتُوْكَ بِكُ٘لِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں۔ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ علیہ السلام کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ جادو نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال} فرعون {للملأ حولَه}: معارضاً للحقِّ ومَنْ جاء به: {إنَّ هذا لساحرٌ عليمٌ. يريدُ أنْ يُخْرِجَكم من أرضِكُم}: موَّه عليهم لعلمِهِ بضَعْفِ عقولهم أنَّ هذا من جنس ما يأتي به السحرةُ؛ لأنَّه من المتقرِّر عندَهم أنَّ السحرة يأتون من العجائب بما لا يقدِرُ عليه الناس، وخوَّفَهم أن قصدَهُ بهذا السحر التوصُّل إلى إخراجهم من وطنهم؛ ليجدُّوا ويجتهدوا في معاداةِ مَنْ يريدُ إجلاءهم عن أولادِهِم وديارِهِم، {فماذا تأمرونَ} أن نَفْعَلَ به؟ {قالوا أرْجِهْ وأخاهُ}؛ أي: أخِّرْهما، {وابْعَثْ في المدائن حاشرينَ}: جامعين للناس، يأتوكَ أولئك [الحاشرون] {بكلِّ سَحَّارٍ عليم}؛ أي: ابعثْ في جميع مُدُنِكَ التي هي مقرُّ العلم ومعدنُ السحر مَنْ يجمعُ لك كلَّ ساحرٍ ماهرٍ عليم في سحرِهِ؛ فإنَّ الساحرَ يُقَابَلُ بسحرٍ من جنس سحرِهِ، وهذا من لطفِ الله؛ أن يريَ العبادَ بطلانَ ما موَّه به فرعونُ الجاهلُ الضالُّ المضلُّ أنَّ ما جاء به موسى سحرٌ؛ قيضهم أن جمعوا أهل المهارة بالسحر؛ لينعقد المجلسُ عن حضرةِ الخلق العظيم، فيظهر الحقُّ على الباطل، ويقر أهل العلم وأهل الصناعة بصحَّةِ ما جاء به موسى، وأنَّه ليس بسحر.