تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذۡتَ اِلٰـہًا غَیۡرِیۡ لَاَجۡعَلَنَّکَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِیۡنَ ﴿۲۹﴾
کہا یقینا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے ضرور ہی قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔ En
(فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کردوں گا
En
فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ تو اس نے کہا موسیٰ علیہ السلام کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کو گمراہ کر دے اور موسیٰ علیہ السلام اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں؟ ﴿ قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰؔدِقِیْنَ ۰۰ فَاَلْ٘قٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِیْنٌ وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔
﴿ وَّنَزَعَ یَدَهٗ اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا اپنے گریباں سے۔ ﴿ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰ٘ظِرِیْنَ تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما خنقت فرعونَ الحجةُ وعجزتْ قدرتُهُ وبيانُه عن المعارضة؛ {قال}: متوعداً لموسى بسلطانه: {لَئِنِ اتَّخذتَ إلهاً غيري لأجْعَلَنَّكَ من المسجونينَ}: زعم قبَّحه الله أنَّه قد طمع في إضلال موسى، وأنْ لا يتَّخِذَ إلهاً غيرَه، وإلاَّ؛ فقد تقرَّر أنه هو ومن معه على بصيرةٍ من أمرهم، فقال له موسى: {أولو جئتُك بشيءٍ مُبين}؛ أي: آيةٍ ظاهرةٍ جليَّةٍ على صحَّة ما جئتُ به من خوارق العادات، {قال فأتِ به إن كنتَ من الصادقينَ. فألْقى عصاه فإذا هي ثُعبانٌ}؛ أي: ذكر الحيات. {مبينٌ}: ظاهرٌ لكلِّ أحدٍ لا خيالٌ ولا تشبيهٌ، {ونَزَعَ يدَه}: من جيبه، {فإذا هي بيضاءُ للنَّاظِرينَ}؛ أي: لها نورٌ عظيم لا نقصَ فيه لمن نظر إليها.