تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 198

وَ لَوۡ نَزَّلۡنٰہُ عَلٰی بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِیۡنَ ﴿۱۹۸﴾ۙ
اور اگر ہم اسے غیر عرب لوگوں میں سے کسی پر نازل کرتے۔ En
اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے
En
اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَ تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولو نَزَّلْناه على بعضِ الأعجمينَ}: الذين لا يفقهونَ لسانَهم ولا يقدِرون على التعبير لهم كما ينبغي. {فقَرَأهُ عليهم ما كانوا به مؤمنينَ}: يقولونَ ما نَفْقَهُ ما يقولُ ولا ندري ما يدعو إليه! فَلْيَحْمَدوا ربَّهم أن جاءهم على لسانِ أفصح الخَلْقِ وأقدَرِهم على التعبيرِ على المقاصد بالعبارات الواضحةِ وأنصحهم، ولْيبادروا إلى التصديق به وتلقِّيه بالتَّسليم والقَبول.