تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 192

وَ اِنَّہٗ لَتَنۡزِیۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۹۲﴾ؕ
اور بے شک یہ یقینا رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔ En
اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے
En
اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لمَّا ذَكَرَ قَصَصَ الأنبياءِ مع أممهم، وكيف دَعَوْهم وردُّوا عليهم به، وكيف أهلك اللهُ أعداءَهم وصارت لهم العاقبةُ؛ ذكر هذا الرسول الكريم والنبيَّ المصطفى العظيم وما جاء به من الكتابِ الذي فيه هدايةٌ لأولي الألباب، فقال: {وإنَّه لتنزيلُ ربِّ العالمين}: فالذي أنزله فاطرُ الأرض والسماوات، المربي جميعَ العالمِ العلويِّ والسفليِّ، وكما أنه ربَّاهم بهدايتهم لمصالح دنياهم وأبدانهم؛ فإنَّه يربِّيهم أيضاً بهدايتهم لمصالح دينهم وأخراهم، ومن أعظم ما ربَّاهم به إنزالُ هذا الكتاب الكريم، الذي اشتمل على الخير الكثير والبرِّ الغزير، وفيه من الهدايةِ لمصالح الدارينِ والأخلاق الفاضلةِ ما ليس في غيره، [و] في قوله: {إنَّه لَتنزيلُ ربِّ العالمين} من تعظيمه وشدَّة الاهتمام فيه من كونه نَزَلَ من الله لا من غيره مقصوداً فيه نفعكم وهدايتكم.