تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 188

قَالَ رَبِّیۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۸۸﴾
اس نے کہا میرا رب زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ En
شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے
En
کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ شعیب علیہ السلام نے کہا: ﴿ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال} شعيبٌ عليه السلام: {ربِّي أعلمُ بما تعملونَ}؛ أي: نزول العذاب ووقوعُ آياتِ الاقتراحِ لستُ أنا الذي آتي بها وأُنْزِلُها بكم، وليس عليَّ إلاَّ تبليغُكم ونُصحكم، وقد فعلتُ، وإنَّما الذي يأتي بها ربي، العالِم بأعمالكم وأحوالكم، الذي يجازيكم ويحاسبكم.