تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 181

اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِیۡنَ ﴿۱۸۱﴾ۚ
ماپ پورا دو اور کم دینے والوں میں سے نہ بنو۔ En
(دیکھو) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو
En
ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیب علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ﴿اَوْفُوا الْكَیْلَ ناپ کو پورا کرو ﴿وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَ اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْ٘نَ اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكانوا مع شِرْكِهِم يَبْخَسون المكاييل والموازينَ؛ فلذلك قال لهم: {أوفوا الكَيْل}؛ أي: أتمُّوه وأكملوه، {ولا تَكونوا من المُخْسِرينَ}: الذين ينقصون الناس أموالهم ويسلبونها ببَخْسِ المكيال والميزان، {وزِنوا بالقسطاس المستقيم}؛ أي: بالميزان العادل الذي لا يميل، {واتَّقوا الذي خَلَقَكُم والجِبِلَّةَ الأولينَ}؛ أي: الخليقة الأولينَ؛ فكما انفرد بخلقِكُم وخلقِ من قَبْلَكُم من غير مشاركةٍ له في ذلك؛ فأفْرِدوه بالعبادة والتوحيد، وكما أنعم عليكم بالإيجاد والإمداد بالنعم؛ فقابلوه بشكره.