تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 18

قَالَ اَلَمۡ نُرَبِّکَ فِیۡنَا وَلِیۡدًا وَّ لَبِثۡتَ فِیۡنَا مِنۡ عُمُرِکَ سِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾
اس نے کہا کیا ہم نے تجھے اپنے اندر اس حال میں نہیں پالا کہ تو بچہ تھا اور تو ہم میں اپنی عمر کے کئی سال رہا۔ En
(فرعون نے موسیٰ سے کہا) کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچّے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی
En
فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟ اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ۰۰ وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔ اس سے مراد موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوْسٰؔى فَ٘قَ٘ضٰى عَلَیْهِ (القصص:28؍15) تو موسیٰ علیہ السلام نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ ﴿وَاَنْتَ مِنَ الْ٘كٰفِرِیْنَ اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما جاءا لفرعونَ وقالا له ما قالَ الله لهما؛ لم يؤمنْ فرعونُ، ولم يَلِنْ، وجعل يعارض موسى، فقال: {ألم نُرَبِّكَ فينا وليداً}؛ أي: ألم ننعم عليكَ ونقوم بتربيتِكَ منذ كنت وليداً في مهدِكَ ولم تزل كذلك، {ولَبِثْتَ فينا من عُمُرِكَ سنينَ. وفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ التي فَعَلْتَ}: وهي قتلُ موسى للقبطيِّ حين {استغاثَهُ الذي من شيعتِهِ على الذي من عَدُوِّه فَوَكَزَهُ موسى فقضى عليه ... } الآية. {وأنت من الكافرين}؛ أي: وأنت إذ ذاك طريقُك طريقُنا وسبيلُك سبيلُنا في الكفر، فأقرَّ على نفسِهِ بالكفرِ من حيث لا يدري.