تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 160

کَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطِۣ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۶۰﴾ۚۖ
لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔ En
(اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
En
قوم لوط نے بھی نبیوں کو جھٹلایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوط علیہ السلام کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوط علیہ السلام انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوْا انھوں نے کہا حضرت لوط علیہ السلام سے ﴿ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قالَ لهم وقالوا كما قالَ مَنْ قَبْلَهم، تشابهتْ قلوبُهُم في الكفر، فتشابهتْ أقوالُهم، وكانوا مع شِرْكِهِم يأتون فاحشةً لم يسبِقْهم إليها أحدٌ من العالمين؛ يختارون نكاحَ الذُّكرانِ المستقذَرِ الخبيث، ويرغبون عمَّا خُلِقَ لهم من أزواجهم؛ لإسرافهم وعدوانِهِم، فلم يزل ينهاهم حتى {قالوا لَئِن لم تَنتَهِ يا لوطُ لَتَكونَنَّ من المُخْرَجينَ}؛ أي: من البلد.