تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 157

فَعَقَرُوۡہَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِیۡنَ ﴿۱۵۷﴾ۙ
تو انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، پھر پشیمان ہوگئے۔ En
تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے
En
پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں، بس وه پشیمان ہوگئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فخرجتْ، واستمرَّتْ عندَهم بتلك الحال، فلم يؤمنوا، واستمرُّوا على طغيانهم، {فعقروها فأصبحوا نادمينَ. فأخَذَهُم العذابُ}: وهي صيحةٌ نزلت عليهم فدمَّرتهم أجمعينَ. {إنَّ في ذلك لآيةً}: على صدق ما جاءت به رُسْلُنا وبطلانِ قول معارضيهم. {وما كان أكثرُهُم مؤمنينَ. وإنَّ ربَّك لهو العزيزُ الرحيم}.