تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 141

کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۚۖ
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔ En
(اور) قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا
En
ﺛمودیوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ پیغمبروں کو۔ انھوں نے صالح علیہ السلام کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالح علیہ السلام کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ جب ان کے بھائی صالح علیہ السلام نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوْنَ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِیْنٌ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{كذبتْ ثمودُ} القبيلةُ المعروفةُ في مدائن الحِجْر {المرسلينَ}: كذَّبوا صالحاً عليه السلام، الذي جاء بالتوحيد، الذي دعتْ إليه المرسلون، فكان تكذيبُهم له تكذيباً للجميع، {إذ قال لهم أخوهم صالحٌ}: في النسب برفقٍ ولينٍ: {ألا تتَّقونَ}: الله تعالى وَتَدَعون الشركَ والمعاصي. {إنِّي لكم رسولٌ}: من الله ربِّكم، أرْسَلَني إليكُم لطفاً بكم ورحمةً، فتلَقَّوا رحمته بالقَبول، وقابِلوها بالإذعان. {أمينٌ}: تعرفون ذلك منِّي، وذلك يوجِبُ عليكم أن تؤمِنوا بي وبما جئتُ به، {وما أسألُكُم عليه من أجرٍ}: فتقولون: يمنعُنا من اتِّباعكَ أنَّك تريدُ أخذَ أموالنا. {إنْ أجْرِيَ إلاَّ على ربِّ العالمينَ}؛ أي: لا أطلبُ الثوابَ إلاَّ منه.