تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 12

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّکَذِّبُوۡنِ ﴿ؕ۱۲﴾
اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ En
انہوں نے کہا کہ میرے پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں
En
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ۰۰وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔ عرض کی ﴿ رَبِّ اشْ٘رَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ۰۰وَیَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ۰۰وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ۰۰یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۰۰وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْ٘لِیْۙ۰۰هٰؔرُوْنَ اَخِی (طٰہٰ:20؍25-30) اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔
﴿ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰؔرُوْنَ پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً (القصص: 28؍34) اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں۔ ﴿ وَلَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال موسى عليه السلام معتذراً من ربِّه ومبيِّناً لعذرِهِ وسائلاً له المعونَةَ على هذا الحمل الثقيل: {قال ربِّ إنِّي أخافُ أن يكذِّبونِ. ويضيقُ صَدْري ولا يَنْطَلِقُ لساني}، فقال: {ربِّ اشْرَحْ لي صَدْري. ويَسِّرْ لي أمري. واحْلُلْ عُقْدَهً من لساني. يَفْقَهوا قولي واجْعَلْ لي وزيراً من أهلي. هارونَ أخي}، {فأرسِلْ إلى هارونَ}: فأجاب الله طلبتَهُ ونبَّأ أخاه [هارون] كما نبَّأه، {فأرْسِلْهُ معي رِدْأً}؛ أي: معاوناً لي على أمري. {ولهم عليَّ ذنبٌ}؛ أي: في قتل القبطيِّ، {فأخافُ أن يَقْتُلونِ}.