تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 119

فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ مَنۡ مَّعَہٗ فِی الۡفُلۡکِ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴿۱۱۹﴾ۚ
تو ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں تھے، بچا لیا۔ En
پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، ان کو بچا لیا
En
چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَنْجَیْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔ ﴿ الْمَشْحُوْنِ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغْ٘رَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَ پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔ یعنی نوح علیہ السلام اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الْبٰقِیْنَ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ بے شک اس میں۔ یعنی نوح علیہ السلام اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰیَةً ایک نشانی ہے جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِیْمُ مہربان ہے۔ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأنجَيْناه ومَن معه في الفُلْكِ}؛ أي: السفينة {المشحونِ}: من الخَلْق والحيوانات، {ثم أغْرَقْنا بعدُ}؛ أي: بعد نوح ومن معه من المؤمنين {الباقينَ}؛ أي: جميع قومه. {إنَّ في ذلك}؛ أي: نجاة نوح وأتباعه وإهلاك مَنْ كَذَّبَه {لآيةً}: دالَّة على صِدق رُسُلِنا وصحَّة ما جاؤوا به وبطلانِ ما عليه أعداؤهم المكذِّبون بهم. {وإنَّ ربَّك لهو العزيزُ}: الذي قهر بعزِّهِ أعداءَه فأغرقهم بالطُّوفان. {الرحيمُ}: بأوليائه؛ حيث نجَّى نوحاً ومن معه من أهل الإيمان.