تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 116

قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ یٰنُوۡحُ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِیۡنَ ﴿۱۱۶﴾ؕ
انھوں نے کہا اے نوح! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کیے گئے لوگوں سے ہوجائے گا۔ En
انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کردیئے جاؤ گے
En
انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نوح علیہ السلام دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے: ﴿ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْ٘مَرْجُوْمِیْنَ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فاستمر نوح عليه الصلاة والسلام على دعوتهم ليلاً ونهاراً، سرًّا وجهاراً، فلم يزدادوا إلاَّ نفوراً، و {قالوا لَئِن لم تَنتَهِ يا نوحُ}: من دعوتِكَ إيَّانا إلى الله وحده؛ {لتكونَنَّ من المَرْجومينَ}؛ أي: لنقتُلَنَّكَ شرَّ قِتْلة؛ بالرمي بالحجارة؛ كما يُقْتَلُ الكلبُ فتبًّا لهم! ما أقبح هذه المقابلةَ! يقابلون الناصحَ الأمين الذي هو أشفقُ عليهم من أنفسهم بشرِّ مقابلة.