تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 111

قَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ لَکَ وَ اتَّبَعَکَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾ؕ
انھوں نے کہا کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں، حالانکہ تیرے پیچھے وہ لوگ لگے ہیں جوسب سے ذلیل ہیں۔ En
وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں
En
قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

انھوں نے نوح علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوح علیہ السلام کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔
جب ہم حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوح علیہ السلام کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوح علیہ السلام کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقالوا ردًّا لدعوته ومعارضةً له بما ليس يَصْلُحُ للمعارضة: {أنؤمنُ لك واتَّبَعَكَ الأرذلونَ}؛ أي: كيف نتَّبِعُك ونحن لا نرى أتباعَكَ إلاَّ أسافل الناس وأراذِلَهم وسَقَطَهم. بهذا يُعْرَفُ تكبُّرهم عن الحقِّ وجهلُهُم بالحقائق؛ فإنَّهم لو كان قصدُهُم الحقَّ؛ لقالوا ـ إنْ كان عندَهم إشكالٌ وشكٌّ في دعوته ـ: بيِّنْ لنا صحةَ ما جئتَ به بالطُّرق الموصلة إلى ذلك! ولو تأمَّلوا حقَّ التأمُّل؛ لعلموا أنَّ أتباعه هم الأعْلَوْنَ، خيار الخلق، أهل العقول الرزينة والأخلاق الفاضلة، وأنَّ الأرذل مَنْ سُلِبَ خاصيَّةَ عقلِهِ، فاستحسن عبادةَ الأحجار، ورضي أن يَسْجُدَ لها ويَدْعُوَها، وأبى الانقيادَ لدعوة الرُّسل الكُمَّل. وبمجرَّد ما يتكلَّم أحدُ الخصمين في الكلام الباطل؛ يُعْرَفُ فساد ما عنده؛ بقطع النظر عن صحة دعوى خصمِهِ؛ فقوم نوح لمَّا سمعنا عنهم أنهم قالوا في ردِّهم دعوةَ نوح: {أنؤمنُ لك واتَّبَعَكَ الأرذلونَ}: فبَنَوْا على هذا الأصل الذي كلُّ أحدٍ يعرف فسادَهُ ردَّ دعوتِهِ؛ عرفنا أنَّهم ضالُّون مخطئون، ولو لم نشاهِدْ من آيات نوح ودعوتِهِ العظيمةِ ما يفيدُ الجزم واليقينَ بصدقِهِ وصحَّة ما جاء به.