یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا اور ظالموں نے کہا تم تو بس ایسے آدمی کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے۔
En
یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں کھایا کرتا۔ اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو
یا اس کے پاس کوئی خزانہ ہی ڈال دیا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس میں سے یہ کھاتا۔ اور ان ﻇالموں نے کہا کہ تم ایسے آدمی کے پیچھے ہو لئے ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَوْیُلْ٘قٰۤىاِلَیْهِكَنْ٘زٌ ﴾”یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔“ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو﴿ اَوْتَكُوْنُلَهٗجَنَّةٌیَّ٘اْكُ٘لُمِنْهَا﴾”یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔“ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہو جاتا ﴿وَقَالَالظّٰلِمُوْنَ ﴾”اور ظالموں نے کہا۔“ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں بلکہ ان کا ظلم ہے: ﴿ اِنْتَتَّبِعُوْنَاِلَّارَجُلًامَّسْحُوْرًا ﴾”تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔“ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل، آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أو يُلْقى إليه كنزٌ}؛ أي: مالٌ مجموع من غير تعب، {أو تكون له جنَّةٌ يأكُلُ منها}: فيستغني بذلك عن مشيه في الأسواق لطلب الرزق، {وقال الظالمون}: حملهم على القول ظُلْمهُم، لا اشتباه منهم: {إن تَتَّبِعونَ إلاَّ رَجُلاً مسَحْوراً}: هذا وقد علموا كمال عقله وحسن حديثه وسلامته من جميع المطاعن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔