تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 77

قُلۡ مَا یَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡ لَا دُعَآؤُکُمۡ ۚ فَقَدۡ کَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ یَکُوۡنُ لِزَامًا ﴿٪۷۷﴾
کہہ میرا رب تمھاری پروا نہیں کرتا اگر تمھارا پکارنا نہ ہو، سو بے شک تم نے جھٹلا دیا، تو عنقریب (اس کا انجام) چمٹ جانے والا ہوگا۔ En
کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا۔ تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا (تمہارے لئے) لازم ہوگی
En
کہہ دیجئے! اگر تمہاری دعا التجا (پکارنا) نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری مطلق پروا نہ کرتا، تم تو جھٹلا چکے اب عنقریب اس کی سزا تمہیں چمٹ جانے والی ہوگی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا: ﴿ قُ٘لْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما كان الله تعالى قد أضاف هؤلاء العبادَ إلى رحمتِهِ واختصَّهم بعبوديَّتِهِ لشرفهم وفضلِهِم، ربَّما توهَّم متوهِّم أنَّه وأيضاً غيرهم؛ فَلِمَ لا يدخل في العبوديَّة؟! فأخبر تعالى أنَّه لا يبالي ولا يعبأ بغيرِ هؤلاء، وأنَّه لولا دعاؤكم إيَّاه دعاء العبادة ودعاء المسألة؛ ما عبأ بكم ولا أحبَّكم، فقال: {قُلْ ما يَعْبَأُ بكم رَبِّي لولا دُعاؤكُم فقدْ كَذَّبْتُم فسوفَ يكون لِزاماً}؛ أي: عذاباً يَلْزَمُكُم لزومَ الغريم لغريمه، وسوف يحكُمُ اللهُ بينكم وبين عبادِهِ المؤمنين.