تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَنْتَابَوَعَمِلَصَالِحًافَاِنَّهٗیَتُوْبُاِلَىاللّٰهِمَتَابً٘ا ﴾”اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔“ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔
اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ومن تاب وعَمِلَ صالحاً فإنَّه يتوبُ إلى الله مَتاباً}؛ أي: فليعلم أنَّ توبتَه في غاية الكمال؛ لأنَّها رجوعٌ إلى الطريق الموصل إلى الله، الذي هو عينُ سعادة العبد وفلاحه؛ فَلْيُخْلِصْ فيها، ولْيُخَلِّصْها من شوائب الأغراض الفاسدة. فالمقصودُ من هذا الحثُّ على تكميل التوبة واتِّباعها على أفضل الوجوه وأجلها؛ ليقدم على من تاب إليه، فيوفيه أجره بحسب كمالها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔