تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 69

یُّضٰعَفۡ لَہُ الۡعَذَابُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ یَخۡلُدۡ فِیۡہٖ مُہَانًا ﴿٭ۖ۶۹﴾
اس کے لیے قیامت کے دن عذاب دگنا کیا جائے گا اور وہ ہمیشہ اس میں ذلیل کیا ہوا رہے گا۔ En
قیامت کے دن اس کو دونا عذاب ہوگا اور ذلت وخواری سے ہمیشہ اس میں رہے گا
En
اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وه ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَیَخْلُدْ فِیْهٖ قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا رسوائی کے ساتھ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم فسَّره بقوله: {يُضاعَفْ له العذابُ يوم القيامةِ ويَخْلُدْ فيه}؛ أي: في العذاب {مهاناً}، فالوعيد بالخلودِ لمن فعلها كلَّها ثابتٌ لا شكَّ فيه، وكذلك لمن أشركَ بالله، وكذلك الوعيد بالعذاب الشديد على كلِّ واحدٍ من هذه الثلاثة؛ لكونها إمَّا شرك وإمَّا من أكبر الكبائر، وأما خلود القاتل والزاني في العذاب؛ فإنَّه لا يتناوله الخلودُ؛ لأنه قد دلَّت النصوصُ القرآنيَّة والسنَّة النبويَّة أنَّ جميع المؤمنين سيخرُجون من النار، ولا يخلُدُ فيها مؤمنٌ، ولو فعل من المعاصي ما فعل. ونصَّ تعالى على هذه الثلاثة لأنها أكبر الكبائر: فالشرك فيه فساد الأديان، والقتلُ فيه فسادُ الأبدان، والزِّنا فيه فساد الأعراض.