تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 60

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اسۡجُدُوۡا لِلرَّحۡمٰنِ قَالُوۡا وَ مَا الرَّحۡمٰنُ ٭ اَنَسۡجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا وَ زَادَہُمۡ نُفُوۡرًا ﴿٪ٛ۶۰﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں اور رحمان کیا چیز ہے؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات انھیں بدکنے میں بڑھا دیتی ہے۔ En
اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اس کے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں
En
ان سے جب بھی کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجده کرو تو جواب دیتے ہیں رحمٰن ہے کیا؟ کیا ہم اسے سجده کریں جس کا تو ہمیں حکم دے رہا ہے اور اس (تبلیﻎ) نےان کی نفرت میں مزید اضافہ کردیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں فرمایا: ﴿ وَاِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو۔ یعنی صرف رحمن کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ جس نے تمھیں تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور تم سے تمام سختیوں کو دور کیا ہے ﴿قَالُوْا تو انھوں نے (انکار کرتے ہوئے) کہا: ﴿وَمَا الرَّحْمٰنُ اور رحمان کیا ہے۔ یعنی وہ اپنے زعم فاسد کے مطابق کہتے ہیں کہ وہ رحمن کو نہیں پہچانتے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان کی جملہ جرح وقدح یہ بھی ہے کہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک اور معبود کو پکارتا ہے اور کہتا ہے)یارحمٰن(جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُ٘لِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰؔى (بنی اسرائیل:17؍110) کہہ دیجیے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر پکارو۔ اسے جس نام سے بھی پکارو اس کے سب نام بہت اچھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے کثرت اوصاف اور تعدد کمال کی بنا پر اس کے نام بھی بکثرت ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام اس کی ایک صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔
﴿ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا کیا جس کے لیے تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم اس کے آگے سجدہ کریں۔ یعنی مجرد تیرے حکم دینے سے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں۔ ان کا یہ قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور اللہ کی اطاعت کے بارے میں ان کے تکبر پر مبنی ہے۔ ﴿ وَزَادَهُمْ اور زیادہ کیا ان کو یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کی دعوت نے ﴿ نُفُوْرًا بدکنے میں یعنی ان کے حق سے باطل کی طرف بھاگنے، ان کے کفر اور ان کی بدبختی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {وإذا قيلَ لهم اسجُدوا للرحمن}؛ أي: وحده، الذي أنعم عليكم بسائر النعم، ودفع عنكم جميع النقم، {قالوا} جحداً وكفراً: {وما الرحمن}: بزعمِهِم الفاسدُ أنَّهم لا يعرِفون الرحمن، وجعلوا من جملةِ قوادحِهِم في الرسول أنْ قالوا: ينهانا عن اتِّخاذ آلهة مع الله، وهو يدعو معه إلهاً آخر؛ يقول: يا رحمن! ونحو ذلك؛ كما قال تعالى: {قلِ ادْعوا اللهَ أو ادْعوا الرحمن أيًّا ما تَدْعُو فله الأسماءُ الحسنى}: فأسماؤه تعالى كثيرةٌ لكَثْرَة أوصافِهِ وتعدُّد كمالِهِ؛ فكلُّ واحد منها دلَّ على صفة كمال، {أنسجُدُ لما تأمُرُنا}؛ أي: لمجرَّد أمرِك إيَّانا، وهذا مبنيٌّ منهم على التكذيب بالرسول واستكبارِهِم عن طاعته، {وزادَهم}: دعوتُهم إلى السجود للرحمن {نُفوراً}: هرباً من الحقِّ إلى الباطل وزيادة كفر وشقاء.