تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 47

وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِبَاسًا وَّ النَّوۡمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّہَارَ نُشُوۡرًا ﴿۴۷﴾
اور وہی ہے جس نے تمھارے لیے رات کو لباس بنایا اور نیند کو آرام اور دن کو اٹھ کھڑا ہونا بنایا۔ En
اور وہی تو ہے جس نے رات کو تمہارے لئے پردہ اور نیند کو آرام بنایا اور دن کو اُٹھ کھڑے ہونے کا وقت ٹھہرایا
En
اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پرده بنایا۔ اور نیند کو راحت بنائی۔ اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر بے پایاں رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے رات کو تمھارے لیے بمنزلہ لباس بنایا جو تمھیں ڈھانپ لیتی ہے حتیٰ کہ تم رات کے وقت قرار پکڑتے ہو، سو کر آرام کرتے ہو اور نیند کے وقت تمھاری تمام حرکات منقطع ہو جاتی ہیں۔ اگر رات نہ ہوتی تو بندے آرام نہ کر سکتے اور اپنی مصروفیات کو جاری نہ رکھ سکتے اور اس طرح انھیں بہت زیادہ ضرر پہنچتا اور اس کے برعکس اگر ہمیشہ رات رہتی تو بندے کی معاش اور دیگر مصالح معطل ہو کر رہ جاتے۔ مگر دن کو اللہ تعالیٰ نے جی اٹھنے کا وقت بنایا ہے جس میں بندے اپنی تجارت، سفر اور دیگر کاروبار کے لیے پھیل جاتے ہیں اور اس سے ان کے مصالح کا انتظام ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: من رحمته بكم ولُطْفِهِ أن جَعَلَ الليل لكم بمنزلةِ اللِّباس الذي يَغْشاكم حتى تستقرُّوا فيه، وتهدؤوا بالنوم وتسبُتَ حركاتُكم؛ أي: تنقطع عند النوم؛ فلولا الليل؛ لما سكن العبادُ، ولا استمرُّوا في تصرُّفهم، فضرَّهم ذلك غاية الضرر، ولو استمرَّ أيضاً الظلام؛ لتعطَّلت عليهم معايِشُهم ومصالِحُهم، ولكنه جعل النهار نُشوراً؛ ينتشرون فيه لتجاراتهم وأسفارهم وأعمالهم، فيقوم بذلك ما يقوم من المصالح.