تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 34

اَلَّذِیۡنَ یُحۡشَرُوۡنَ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ اِلٰی جَہَنَّمَ ۙ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿٪۳۴﴾
وہ لوگ جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔ En
جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ رستے سے بھی بہکے ہوئے ہیں
En
جو لوگ اپنے منھ کے بل جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ وہی بدتر مکان والے اور گمراه تر راستے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے احوال اور ان کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ وہ منہ کے بل جمع کیے جائیں گے۔ یعنی ان کو جمع كيے جانے کا منظر بدترین منظر ہو گا۔ عذاب کے فرشتے انھیں (چہروں کے بل) گھسیٹ رہے ہوں گے ﴿ اِلٰى جَهَنَّمَ جہنم کی طرف۔ جس میں ہر قسم کا بدترین عذاب اور عقاب جمع ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ یعنی جن کا حال یہ ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ان کی جگہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والوں کی جگہ کی نسبت سے بدترین جگہ ہے۔ ﴿ وَّاَضَلُّ سَبِیْلًا اور بہت زیادہ گمراہ راستے والے ہیں۔ یہ اسلوب بیان اسم تفضیل کے اس باب میں سے ہے جس کے بالمقابل دوسرا پہلو موجود نہیں ہوتا۔ پس اہل ایمان کی جگہ بہترین ٹھکانا ہو گی۔ اس دنیا میں ان کو راہ راست کی طرف راہنمائی عطا کی جاتی ہے اور آخرت میں انھیں نعمت والے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن حال المشركين الذين كذَّبوا رسوله وسوءَ مآلهم وأنهم {يُحْشَرون على وجوهِهِم}: في أشنع مرأى وأفظع منظرٍ، تسحبُهُم ملائكةُ العذاب ويجرُّونهم {إلى جهنَّم}: الجامعة لكلِّ عذابٍ وعقوبة، {أولئك}: الذين بهذه الحال {شرٌّ مكاناً}: ممَّن آمن بالله وصدَّق رسلَه {وأضلُّ سبيلاً}: وهذا من باب استعمال أفعل التفضيل فيما ليس في الطرف الآخر منه شيء؛ فإنَّ المؤمنين حسنٌ مكانهم ومستقرُّهم، واهتدوا في الدنيا إلى الصراط المستقيم، وفي الآخرة إلى الوصول إلى جنات النعيم.