تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَقَدِمْنَاۤاِلٰىمَاعَمِلُوْامِنْعَمَلٍ ﴾ یعنی ان کے وہ اعمال جن کے بارے میں انھیں امید ہے کہ وہ نیکی کے کام ہیں اور ان کے لیے انھوں نے مشقت اٹھائی ہے ﴿ فَجَعَلْنٰهُهَبَآءًمَّنْثُوْرًا ﴾”پس ہم ان کو اڑے ہوئے ذرات کی طرح کر دیں گے۔“ یعنی ان کا سب کیا دھرا باطل کر دیں گے، وہ گھاٹے میں رہیں گے اور ان کو اجر سے محروم کر دیا جائے گا اور ان کو سزا دی جائے گی۔ کیونکہ یہ اعمال ایسے شخص سے صادر ہوئے ہیں جس میں ایمان کا فقدان ہے اور جو اللہ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو مخلص مومن، رسولوں کی تصدیق اور ان کی اتباع کرنے والے سے صادر ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقَدِمْنا إلى ما عملوا من عمل}؛ أي: أعمالهم التي رَجَوْا أن تكونَ خيراً وتعبوا فيها، {فجَعَلْناه هباءً منثوراً}؛ أي: باطلاً مضمحلًّا قد خسروه وحُرِموا أجره وعوقبوا عليه، وذلك لفقدِهِ الإيمان وصدورِهِ عن مكذِّب لله ورسله؛ فالعمل الذي يقبلُهُ الله ما صَدَرَ من المؤمن المخلصِ المصدِّق للرسل المتَّبِع لهم فيه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔