تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِذَادُعُوْۤااِلَىاللّٰهِوَرَسُوْلِهٖ٘لِیَحْكُمَبَیْنَهُمْ ﴾ جب ان کے اور کسی دوسرے شخص کے درمیان مخاصمت ہوتی ہے اور انھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی طرف بلایا جاتا ہے۔ ﴿ اِذَافَرِیْقٌمِّؔنْهُمْمُّعْرِضُوْنَ ﴾”تو ایک گروہ ان میں سے اعراض کرتا ہے۔“ وہ جاہلیت کے احکام چاہتے ہیں اور غیر شرعی قوانین کو شرعی قوانین پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ حق ان کے خلاف ہو گا اور شریعت وہی فیصلہ کرے گی جو واقع کے مطابق ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذا دُعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم}؛ أي: إذا صار بينَهم وبينَ أحدٍ حكومةٌ ودُعوا إلى [حكم] الله ورسوله، {إذا فريقٌ منهم معرِضونَ}: يريدونَ أحكامَ الجاهليَّة ويفضِّلون أحكام القوانين غير الشرعيَّة على الأحكام الشرعيَّة؛ لعلمِهِم أنَّ الحقَّ عليهم، وأنَّ الشرع لا يحكُم إلاَّ بما يطابِقُ الواقع.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔