تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 48

وَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو اچانک ان میں سے کچھ لوگ منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔ En
اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے
En
جب یہ اس بات کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے جھگڑے چکا دے تو بھی ان کی ایک جماعت منھ موڑنے والی بن جاتی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ٘ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ جب ان کے اور کسی دوسرے شخص کے درمیان مخاصمت ہوتی ہے اور انھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی طرف بلایا جاتا ہے۔ ﴿ اِذَا فَرِیْقٌ مِّؔنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ تو ایک گروہ ان میں سے اعراض کرتا ہے۔ وہ جاہلیت کے احکام چاہتے ہیں اور غیر شرعی قوانین کو شرعی قوانین پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ حق ان کے خلاف ہو گا اور شریعت وہی فیصلہ کرے گی جو واقع کے مطابق ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإذا دُعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم}؛ أي: إذا صار بينَهم وبينَ أحدٍ حكومةٌ ودُعوا إلى [حكم] الله ورسوله، {إذا فريقٌ منهم معرِضونَ}: يريدونَ أحكامَ الجاهليَّة ويفضِّلون أحكام القوانين غير الشرعيَّة على الأحكام الشرعيَّة؛ لعلمِهِم أنَّ الحقَّ عليهم، وأنَّ الشرع لا يحكُم إلاَّ بما يطابِقُ الواقع.