ان عظیم گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ وہ بلند کیے جائیں اور ان میں اس کا نام یاد کیا جائے، اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ان میں صبح و شام۔
En
(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کئے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اللہ کی عبادت کی جاتی ہے ﴿ فِیْبُیُوْتٍ ﴾”گھروں میں “ یعنی فضیلت اور عظمت والے گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کو زمین کے سب ٹکڑوں سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ مساجد ہیں۔ ﴿ اَذِنَاللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وصیت کی ہے ﴿ اَنْتُرْفَ٘عَوَیُذْكَرَفِیْهَااسْمُهٗ ﴾”کہ انھیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔“ ان دو امور میں مساجد کے احکام جمع کر دیے گئے ہیں۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر، ان میں جھاڑو دینا، ان کو نجاستوں سے پاک رکھنا، ان کو بچوں اور فاتر العقل لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاست سے نہیں بچتے، کفار سے محفوظ رکھنا ان کو لغویات اور ذکر الٰہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ رکھنا، شامل ہیں۔ ﴿ وَیُذْكَرَفِیْهَااسْمُهٗ ﴾ ذکر میں فرض و نفل ہر قسم کی نماز، قراء ت قرآن، تسبیح و تہلیل اور دیگر اذکار، علم کی تعلیم و تعلم، علمی مذاکرہ، اعتکاف اور دیگر عبادات جن کو مساجد میں سرانجام دیا جاتا ہے، سب شامل ہیں۔ اسی لیے مساجد کی آبادی دو اقسام پر مشتمل ہے۔
(۱) مساجد کی تعمیر اور ان کی حفاظت کے ساتھ ان کو آباد رکھنا۔
(۲) نماز اور ذکر الٰہی وغیرہ سے مساجد کو آباد رکھنا… دونوں اقسام میں یہ قسم افضل ہے اسی لیے نماز پنجگانہ اور جمعہ کو مساجد میں مشروع کیا گیا ہے۔ اکثر اہل علم کے نزدیک یہ حکم وجوب کے طور پر ہے اور بعض دیگر علماء کے نزدیک مستحب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: يُتَعَبَّدُ لله {في بيوتٍ}: عظيمةٍ فاضلةٍ هي أحبُّ البقاع إليه، وهي المساجد، {أذِنَ الله}؛ أي: أمر ووصَّى {أن تُرْفَعَ ويُذْكَرَ فيها اسمُه}: هذان مجموع أحكام المساجد، فيدخُلُ في رفعها بناؤها وكنسُها وتنظيفُها من النجاسات والأذى وصونُها عن المجانين والصبيانِ الذين لا يتحرَّزون عن النجاسات وعن الكافرِ وأن تُصان عن اللغوِ فيها ورفع الأصواتِ بغير ذِكْرِ الله. {ويُذْكَرَ فيها اسمُه}: يدخُلُ في ذلك الصلاة كلُّها؛ فرضُها ونفلُها، وقراءةُ القرآن، والتسبيحُ، والتهليلُ، وغيره من أنواع الذِّكر، وتعلُّم العلم وتعليمُه، والمذاكرةُ فيها، والاعتكافُ، وغيرُ ذلك من العباداتِ التي تُفْعَلُ في المساجد، ولهذا كانت عِمارةُ المساجد على قسمين: عمارةُ بنيانٍ وصيانةٍ لها، وعمارةٌ بذكرِ اسم الله من الصلاة وغيرها، وهذا أشرف القسمين، ولهذا شُرِعَتِ الصلواتُ الخمس والجمعةُ في المساجد وجوباً عند أكثر العلماء واستحباباً عند آخرين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔