تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 20

وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ وَ اَنَّ اللّٰہَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۲۰﴾
اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے (تو تہمت لگانے والوں پر فوراًعذاب آ جاتا)۔ En
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور یہ کہ خدا نہایت مہربان اور رحیم ہے
En
اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ بڑی شفقت رکھنے واﻻ مہربان ہے۔ (تو تم پر عذاب اتر جاتا) En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحْمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولولا فضلُ الله عليكم}: قد أحاط بكم من كلِّ جانب {ورحمتُهُ} عليكم، {وأنَّ الله رءوفٌ رحيم}: لما بيَّن لكم هذه الأحكام والمواعظ والحِكَم الجليلة، ولمَا أمهلَ من خالف أمره، ولكنَّ فضلَه ورحمتَه، وأنَّ ذلك وصفه اللازم أثر لكم من الخيرِ الدنيويِّ والأخرويِّ ما لن تحصوه أو تعدُّوه.