تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 10

وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ وَ اَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾
اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، کمال حکمت والا ہے ( تو جھوٹوں کو دنیا ہی میں سزا مل جاتی)۔ En
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں۔ مگر وہ صاحب کرم ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا حکیم ہے
En
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا (تو تم پر مشقت اترتی) اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے واﻻ باحکمت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ شرط کا جواب محذوف ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل نہ ہوتا تو دونوں لعان کرنے والوں میں سے جھوٹے پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا جس کی اس نے دعا کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ اس نے یہ حکم نازل فرمایا جو میاں بیوی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس حکم کی سخت ضرورت تھی، نیز اس نے تمھارے سامنے زنا اور قذف کی قباحت اور شدت کو واضح کیا اور اس نے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کو مشروع فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولولا فضلُ الله عليكم ورحمتُه وأنَّ الله تَوَّابٌ حكيمٌ}: وجواب الشرط محذوفٌ يدلُّ عليه سياق الكلام؛ أي: لأحلَّ بأحد المتلاعنين الكاذب منهما ما دعا به على نفسه، ومن رحمتِهِ وفضلِهِ ثبوتُ هذا الحكم الخاصِّ بالزوجين؛ لشدَّة الحاجة إليه، وأنْ بيَّنَ لكم شدَّة الزِّنا وفظاعته وفظاعة القذف به، وأنْ شَرَعَ التوبة من هذه الكبائر وغيرها.