تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل و براہین قائم کر دیے مگر انھوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں: ﴿ قُ٘لْرَّبِّاِمَّاتُرِیَنِّیْمَایُوْعَدُوْنَ﴾ یعنی اے رب! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے ﴿ رَبِّفَلَاتَجْعَلْنِیْفِیالْقَوْمِالظّٰلِمِیْنَ ﴾”تو اے میرے رب! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔“ یعنی اے میرے رب! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے ذریعے سے تو نے ان کفار کو آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ اے میرے رب! مجھے اس عذاب سے بھی بچا لے جو ان پر نازل ہوگا کیونکہ عذاب عام جب نازل ہوتا ہے تو نیک اور بد سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے قریب ہونے کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿ وَاِنَّاعَلٰۤىاَنْنُّ٘رِیَكَمَانَعِدُهُمْلَقٰدِرُوْنَ ﴾”اور ہم اس بات پر کہ ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا وعدہ ہم ان سے کرتے ہیں، یقینا قادر ہیں۔“ لیکن اگر ہم اس عذاب کو موخر کرتے ہیں تو کسی حکمت کی بنا پر، ورنہ ہم اس عذاب کو واقع کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا أقام تعالى على المكذِّبين أدلَّتَه العظيمةَ، فلم يلتَفِتوا لها، ولم يُذْعِنوا لها؛ حقَّ عليهم العذابُ، ووُعِدوا بنزوله، وأرشد اللهُ رسولَه أن يقول: {قُلْ ربِّ إمَّا تُرِيَنِّي ما يوعَدونَ}؛ أي: أيَّ وقتٍ أريتني عذابَهم وأحضرتَني ذلك، {ربِّ فلا تَجْعَلْني في القوم الظالمين}؛ أي: اعصِمْني وارْحَمْني مما ابتلَيْتَهم به من الذُّنوب الموجبة للنقم، واحْمِني أيضاً من العذاب الذي ينزِلُ بهم؛ لأنَّ العقوبة العامَّة تَعُمُّ عند نزولها العاصي وغيره. قال الله في تقريب عذابهم: {وإنَّا على أن نُرِيَكَ ما نَعِدُهُم لَقادِرونَ}: ولكنْ إنْ أخَّرْناه؛ فلحكمةٍ، وإلاَّ؛ فقُدْرَتنا صالحةٌ لإيقاعِهِ [فيهم].
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔