تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 76

وَ لَقَدۡ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ فَمَا اسۡتَکَانُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ مَا یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۷۶﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، پھر بھی وہ نہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے تھے۔ En
اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے ہی نہیں
En
اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ اور ہم نے ان کو پکڑ لیا ساتھ عذاب کے۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے وہ قحط مراد ہے جس میں وہ سات سال تک مبتلا رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مصیبت میں اس لیے ڈالا تاکہ وہ تذلل اور اطاعت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کریں مگر اس چیز نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ ان میں سے کوئی کامیاب ہوا۔ ﴿ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ پس وہ اپنے رب کے سامنے جھکے نہ انھوں نے فروتنی اختیار کی۔﴿وَ مَا يَتَضَرَّعُوْنَ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے نہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھا بلکہ قحط آیا اور گزر گیا مگر وہ اپنی گمراہی اور کفر پر قائم رہے گویا ان پر کوئی مصیبت آئی ہی نہ تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد أخَذْناهم بالعذابِ}: قال المفسِّرونَ: المرادُ بذلك الجوع الذي أصابهم سبع سنين، وأنَّ الله ابتلاهم بذلك ليرجِعوا إليه بالذُّلِّ والاستسلام، فلم ينجَعْ فيهم، ولا نَجَحَ منهم أحدٌ. {فما استَكانوا لربِّهم}؛ أي: خضعوا وذلُّوا، {وما يتضرَّعون}: إليه ويفتقرون، بل مرَّ عليهم ذلك ثم زال كأنه لم يُصِبْهم، لم يزالوا في غيِّهم وكفرهم.