تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 7

فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾
پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ En
اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں
En
جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرجانے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَ٘مَنِ ابْتَ٘غٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔
اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فمنِ ابتغى وراء ذلك}: غير الزوجة والسُّرِّيَّة؛ {فأولئك هم العادونَ}: الذين تعدَّوا ما أحلَّ الله إلى ما حرَّمه، المتجرِّئون على محارم الله. وعموم هذه الآية يدلُّ على تحريم [نكاح] المتعة؛ فإنَّها ليست زوجةً حقيقةً مقصوداً بقاؤها ولا مملوكةً، وتحريم نكاح المحلِّل لذلك. ويدل قوله: {أو ما مَلَكَتْ أيمانُهم}: أنَّه يُشترط في حلِّ المملوكة أن تكونَ كلُّها في ملكه؛ فلو كان له بعضُها؛ لم تحلَّ؛ لأنَّها ليست ممَّا ملكت يمينُه، بل هي ملكٌ له ولغيره؛ فكما أنَّه لا يجوز أن يَشْتَرِكَ في المرأة الحرَّة زوجان؛ فلا يجوزُ أن يشترِكَ في الأمة المملوكة سيدان.