تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 69

اَمۡ لَمۡ یَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَہُمۡ فَہُمۡ لَہٗ مُنۡکِرُوۡنَ ﴿۫۶۹﴾
یا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا تو وہ اسے اوپرا سمجھنے والے ہیں۔ En
یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے پہنچانتے نہیں، اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے
En
یا انہوں نے اپنے پیغمبر کو پہچانا نہیں کہ اس کے منکر ہو رہے ہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْؔكِرُوْنَ یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں۔ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں۔
نہیں! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل الامین کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {أمْ لم يعرِفوا رسولَهم فهم له منكرونَ}؛ أي: أَوَ منعهم من اتّباع الحقِّ أنَّ رسولَهم محمداً - صلى الله عليه وسلم - غير معروفٍ عندهم فهم منكرونَ له يقولونَ: لا نعرِفُه ولا نعرِفُ صدقَه، دعونا [حتى] نَنْظُر حالَه ونسألَ عنه مَنْ له به خبرةٌ؟ أي: لم يكنِ الأمرُ كذلك؛ فإنَّهم يعرفون الرسولَ - صلى الله عليه وسلم - معرفةً تامّةً، صغيرهم وكبيرهم، يعرفون منه كلَّ خُلُق جميل، ويعرِفون صدقَه وأمانَتَه، حتى كانوا يسمُّونه ـ قبل البعثة ـ: الأمين ؛ فَلِمَ لا يصدِّقونَه حين جاءهم بالحقِّ العظيم والصدق المبين؟!