تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 66

قَدۡ کَانَتۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَکُنۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ تَنۡکِصُوۡنَ ﴿ۙ۶۶﴾
بے شک میری آیات تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں پر پھر جایا کرتے تھے۔ En
میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر پھر جاتے تھے
En
میری آیتیں تو تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں پھر بھی تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُ٘تْ٘لٰ٘ى عَلَیْكُمْ میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْؔكِصُوْنَ تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فكأنَّه قيل: ما السببُ الذي أوصلَهم إلى هذه الحال؟ قال: {قد كانتْ آياتي تُتْلى عليكم}: لتؤمِنوا بها وتُقْبِلوا عليها، فلم تَفْعَلوا ذلك، بل {كنتُم على أعقابِكُم تنكِصونَ}؛ أي: راجعين القهقرى إلى الخلف، وذلك لأنَّ باتِّباعهم القرآن يتقدَّمون، وبالإعراض عنه يستأخِرون، وينزلون إلى أسفل سافلين.