تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 60

وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمۡ اِلٰی رَبِّہِمۡ رٰجِعُوۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾
اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں کہ یقینا وہ اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ En
اور جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی لوٹ کر جانا ہے
En
اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وه اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں۔ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ اس کے باوجود ﴿ قُ٘لُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ ان کے دل خوف زدہ ہیں۔ ﴿ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين يؤتونَ ما آتوْا}؛ أي: يعطون من أنفسهم مما أُمِروا به ما آتوا من كلِّ ما يقدرون عليه من صلاةٍ وزكاةٍ وحجٍّ وصدقةٍ وغير ذلك، ومع هذا {قلوبُهُم وَجِلَةٌ}؛ أي: خائفة {أنَّهم إلى ربِّهم راجِعونَ}؛ أي: خائفةٌ عند عرض أعمالها عليه والوقوف بين يديه أن تكونَ أعمالُهم غيرَ منجِّيةٍ من عذاب الله؛ لعلمِهِم بربِّهم، وما يستحقُّه من أصناف العبادات.