تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 37

اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۪ۙ۳۷﴾
نہیں ہے یہ (زندگی) مگر ہماری اس دنیا کی زندگی، ہم (یہیں) مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔ En
زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کہ (اسی میں) ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہم پھر نہیں اُٹھائے جائیں گے
En
(زندگی) تو صرف دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے جیتے رہتے ہیں اور یہ نہیں کہ ہم پھر اٹھائے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں۔ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۠ اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنْ هي إلاَّ حياتُنا الدُّنيا نموتُ ونحيا}؛ أي: يموت أناس ويحيا أناس، {وما نحن بمبعوثينَ}.