تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ثُمَّاِنَّـكُمْیَوْمَالْقِیٰمَةِتُبْعَثُوْنَ ﴾”پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔“ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَیَحْسَبُالْاِنْسَانُاَنْیُّتْرَكَسُدًىؕ۰۰اَلَمْیَكُنُطْفَةًمِّنْمَّنِیٍّیُّمْنٰىۙ۰۰ثُمَّكَانَعَلَقَةًفَخَلَقَفَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَمِنْهُالزَّوْجَیْنِالذَّكَرَوَالْاُنْثٰىؕ۰۰اَلَ٘یْسَذٰلِكَبِقٰدِرٍعَلٰۤىاَنْيُّحْيِۧالْمَوْتٰى ﴾ (القیامۃ: 75؍36۔40) ”کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم إنَّكم يوم القيامةِ تُبْعَثونَ}: فتجازَوْن بأعمالكم حسنها وسيئها؛ قال تعالى: {أيحسَبُ الإنسان أن يُتْرَكَ سدى. ألم يَكُ نطفةً من مَنِيٍّ يُمْنى. ثم كان علقةً فَخَلَقَ فسَوَّى. فَجَعَلَ منه الزوجينِ الذَّكَرَ والأنثى. أليس ذلك بقادرٍ على أن يُحيي الموتى}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔