تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 16

ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۶﴾
پھر بے شک تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ En
پھر قیامت کے روز اُٹھا کھڑے کئے جاؤ گے
En
پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰىؕ۰۰اَلَ٘یْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى (القیامۃ: 75؍36۔40) کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم إنَّكم يوم القيامةِ تُبْعَثونَ}: فتجازَوْن بأعمالكم حسنها وسيئها؛ قال تعالى: {أيحسَبُ الإنسان أن يُتْرَكَ سدى. ألم يَكُ نطفةً من مَنِيٍّ يُمْنى. ثم كان علقةً فَخَلَقَ فسَوَّى. فَجَعَلَ منه الزوجينِ الذَّكَرَ والأنثى. أليس ذلك بقادرٍ على أن يُحيي الموتى}.