تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 115

اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰکُمۡ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمۡ اِلَیۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۱۵﴾
تو کیا تم نے گمان کر لیا کہ ہم نے تمھیں بے مقصد ہی پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟ En
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟
En
کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَفَحَسِبْتُمْ یعنی اے مخلوق! کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ﴿ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا بلاشبہ ہم نے تمھیں بے فائدہ اور باطل پیدا کیا ہے کہ تم کھاؤ، پیو، زمین پر اکڑ کر چلو اور دنیا کی لذتوں سے متمتع ہوتے رہو اور ہم تمھیں یونہی چھوڑ دیں گے۔ ہم تمھیں کسی چیز کا حکم دیں گے نہ تمھیں منع کریں گے، تمھیں ثواب عطا کریں گے نہ تمھیں عذاب دیں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَّاَنَّـكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟ یہ بات تمھارے دل ہی میں نہ آئے۔
﴿ فَ٘تَ٘عٰ٘لَى اللّٰهُ یعنی اس گمان باطل سے اللہ بہت بڑا اور بلندتر ہے جو اس کی حکمت میں قادح ہے۔ ﴿الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْ٘عَرْشِ الْكَرِیْمِ وہ حقیقی بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش کریم کا رب ہے۔ اس کا تمام مخلوق کا مالک ہونا حق ہے وہ اپنے صدق، اپنے وعدہ اور وعید میں حق ہے، وہ محبوب اور معبود ہے کیونکہ وہ ہر کمال کا مالک ہے۔﴿ رَبُّ الْ٘عَرْشِ الْكَرِیْمِ وہ عرش کریم کا رب ہے۔ پھر اس سے کم تر مخلوق کا تو بدرجہ اولیٰ رب ہے۔ یہ چیز مانع ہے اس سے کہ وہ تمھیں عبث پیدا کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {أفحَسِبْتُم} أيُّها الخلقُ، {أنَّما خَلَقْناكم عَبَثاً}؛ أي: سدىً وباطلاً تأكلون وتشربون وتمرَحون وتتمتَّعون بَلذَّات الدُّنيا ونتركُكم لا نأمُرُكم ولا ننهاكم ولا نُثيبكم ونعاقبكم، ولهذا قال: {وأنَّكم إلينا لا تُرْجَعونَ}؟ لا يَخْطُر هذا ببالكم. {فتعالى اللهُ}؛ أي: تعاظمَ وارتفعَ عن هذا الظنِّ الباطل الذي يرجِع إلى القدح في حكمته، {المَلكُ الحقُّ لا إله إلاَّ هو ربُّ العرش الكريم}: فكونُهُ ملكاً للخلق كلِّهم حقًّا في صدقِهِ ووعدِهِ [و] وعيدِهِ مألوهاً معبوداً لما له من الكمال ربَّ العرش العظيم فما دونه من باب أولى يمنَعُ أن يَخْلُقَكم عَبَثاً.