تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 71

وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ مَا لَیۡسَ لَہُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ نَّصِیۡرٍ ﴿۷۱﴾
اور وہ اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور جس کا انھیں کچھ علم نہیں اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ En
اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے۔ اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا
En
اور یہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جس کی کوئی خدائی دلیل نازل نہیں ہوئی نہ وه خود ہی اس کا کوئی علم رکھتے ہیں۔ ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی حالت کا ذکر کرتا ہے جنھوں نے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھا ہے کہ ان کی حالت بدترین حالت ہے۔ ان افعال پر ان کے پاس کوئی سند ہے نہ ان کے پاس کوئی علم ہی ہے۔ یہ تو محض مقلد ہیں یہ سب کچھ انھوں نے اپنے گمراہ آباؤ واجداد سے حاصل کیا ہے… اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان جو کوئی کام کرتا ہے اس کے پاس… فی نفس الامر… کوئی علمی دلیل نہیں ہوتی چنانچہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شرک پر کوئی دلیل نازل نہیں کی جو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ایسی براہین قاطعہ نازل فرمائی ہیں جو اس کے فساد و بطلان پر دلالت کرتی ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں کو، جو حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں، وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا جو ان کو اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكر تعالى حالَة المشركين به العادِلينَ به غيرَه، وأنَّ حالهم أقبحُ الحالات، وأنَّه لا مستندَ لهم على ما فعلوه؛ فليس لهم به علمٌ، وإنَّما هو تقليدٌ تلقَّوْه عن آبائهم الضالين، وقد يكون الإنسانُ لا علم عندَه بما فعله، وهو في نفس الأمر له حجَّة ما علمها، فأخبر هنا أن الله لم يُنَزِّلْ في ذلك {سُلطاناً}؛ أي: حجة تدلُّ عليه وتجوِّزه، بل قد أنزل البراهين القاطعة على فسادِهِ وبطلانِهِ، ثم توعَّد الظالمين منهم المعاندين للحق، فقال: {وما للظَّالمين من نصيرٍ}: ينصُرُهم من عذاب الله إذا نَزَلَ بهم، وحلَّ.