تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 68

وَ اِنۡ جٰدَلُوۡکَ فَقُلِ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۸﴾
اور اگر وہ تجھ سے جھگڑیں تو کہہ دے اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو تم کرتے ہو۔ En
اور اگر یہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ جو عمل تم کرتے ہو خدا ان سے خوب واقف ہے
En
پھر بھی اگر یہ لوگ آپ سے الجھنے لگیں تو آپ کہہ دیں کہ تمہارے اعمال سے اللہ بخوبی واقف ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بناء بریں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حالت میں ان کے ساتھ بحث کرنے سے گریز کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ﴿ وَاِنْ جٰؔدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو کہہ دیجیے، اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے مقاصد اور تمھاری نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ تمھیں قیامت کے دن ان کی جزا دے گااور تمھارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ پس جو کوئی صراط مستقیم کے موافق ہو گا وہ ان لوگوں میں شامل ہو گا جنھیں نعمتوں سے نوازا جائے گا اور جو صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہو گا وہ جہنمیوں میں شامل ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا أمره الله بالعدول عن جدالهم في هذه الحالة، فقال: {وإن جادَلوكَ فقُل اللهُ أعلم بما تعملونَ}؛ أي: هو عالمٌ بمقاصدِكم ونيَّاتكم؛ فمجازيكم عليها في يوم القيامة الذي يحكم الله بينكم {فيما كنتُم فيه تختلفونَ}: فمن وافَقَ الصراط المستقيم؛ فهو من أهل النعيم، ومن زاغَ عنه؛ فهو من أهل الجحيم.