تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 6

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّہٗ یُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۙ﴿۶﴾
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور (اس لیے) کہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور (اس لیے) کہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
ان قدرتوں سے ظاہر ہے کہ خدا ہی (قادر مطلق ہے جو) برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
En
یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو جِلاتا ہے اور وه ہر ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ دو قطعی دلائل ہیں جو ان پانچ مقاصد پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ یہ سب کچھ یعنی آدمی کا اس طرح پیدا کرنا جو اللہ نے بیان کیا اور زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرنا، اس لیے ہے کہ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ اللہ، وہی حق ہے۔ یعنی وہی رب معبود ہے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں، اسی کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت باطل ہے ﴿ وَاَنَّهٗ یُحْیِ الْ٘مَوْتٰى اور وہ زندہ کرے گا مُردوں کو۔ جس طرح اس نے ابتداء تخلیق کی اور جس طرح اس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا ﴿ وَاَنَّهٗ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جیسا کہ اس نے اپنی بدیع قدرت اور عظیم صنعت کا تمھیں مشاہدہ کروایا۔
﴿ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ پس اس کو بعید سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ﴿وَاَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ اور اللہ ان کو دوباروہ اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ پھر تمھیں تمھارے تمام اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فهذان الدليلان القاطعان يدلاَّن على هذه المطالب الخمسةَ، وهي هذه: {ذلك}: الذي أنشأ الآدميَّ من ما وَصَفَ لكم وأحيا الأرض بعد موتها، {بأنَّ الله هو الحقُّ}؛ أي: الربُّ المعبود الذي لا تنبغي العبادة إلاَّ له، وعبادتُهُ هي الحقُّ، وعبادة غيره باطلةٌ. {وأنَّه يُحيي الموتى}: كما ابتدأ الخلق، وكما أحيا الأرض بعد موتها، {وأنَّه على كلِّ شيء قديرٌ}: كما أشهدكم من بديع قدرته وعظيم صنعته ما أشهدكم، {وأنَّ الساعةَ آتيةٌ لا ريبَ فيها}: فلا وجه لاستبعادها، {وأنَّ الله يبعثُ مَن في القبورِ}: فيجازيكم بأعمالكم حسنها وسيئها.