تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 38

اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوۡرٍ ﴿٪۳۸﴾
بے شک اللہ ان لوگوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے، بے شک اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو بے حد خیانت کرنے والا، بہت ناشکرا ہو۔ En
خدا تو مومنوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا رہتا ہے۔ بےشک خدا کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔
En
سن رکھو! یقیناً سچے مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالیٰ ہٹا دیتا ہے۔ کوئی خیانت کرنے واﻻ ناشکرا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے خوشخبری اور وعدہ ہے کہ وہ ہر تکلیف دہ معاملے میں ان کی مدافعت کرے گا، یعنی وہ ان کے ایمان کے سبب سے کفار کے ہر قسم کے شر سے، شیطان کے وسوسوں کے شر سے اور خود ان کے اپنے نفس اور برے اعمال کے شر سے ان کی مدافعت کرے گا۔ مصائب کے نزول کے وقت جن کا بوجھ اٹھانے سے وہ قاصر ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے یہ بوجھ اٹھائے گا اور انتہائی حد تک ان کے بوجھ کو ہلکا کر دے گا۔ ہر مومن اپنے ایمان کے مطابق اس فضیلت اور مدافعت سے سے بہرہ ور ہوگا۔ کسی کو کم حصہ ملے گا کسی کو زیادہ۔
﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُ٘لَّ خَوَّانٍ اللہ تعالیٰ امانت میں خیانت کرنے والے کو پسند نہیں کرتا، جو اس نے اس کے سپرد کی ہے۔ پس خائن اللہ تعالیٰ کے حقوق میں کوتاہی کرتا ہے، ان میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے اور مخلوق کے حقوق میں بھی خیانت کرتا ہے ﴿كَفُوْرٍ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا، اللہ تعالیٰ اس پر احسان کرتا ہے اور یہ خائن جواب میں کفر اور عصیان پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو کبھی پسند نہیں کرتا بلکہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ وہ عنقریب اسے اس کے کفر اور خیانت کی سزا دے گا۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر امانت دار شخص سے، جو اپنی امانت کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے مولا کا شکر گزار ہے… محبت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا إخبارٌ ووعدٌ وبشارةٌ من الله للذين آمنوا أنَّ الله يدافِعُ عنهم كلَّ مكروه، ويدفعُ عنهم كلَّ شرٍّ بسبب إيمانِهِم: من شرِّ الكفار وشرِّ وسوسة الشيطان وشرور أنفسهم وسيئاتِ أعمالهم، ويحملُ عنهم عند نزول المكاره ما لا يتحمَّلون، فيخفِّف عنهم غاية التخفيف، كلّ مؤمن له من هذه المدافعة والفضيلة بحسب إيمانه، فمستقلٌّ ومستكثرٌ.

{إن الله لا يحبُّ كلَّ خوَّانٍ}؛ أي: خائن في أمانته التي حَمَّله الله إيَّاها، فيبخسُ حقوق الله عليه ويخونُها ويخونُ الخلق. {كفورٍ}: لنعم الله، يوالي عليه الإحسان، ويتوالى منه الكفر والعصيان؛ فهذا لا يحبُّه الله، بل يُبْغِضُه ويمقُتُه وسيجازيه على كفرِهِ وخيانتِهِ. ومفهوم الآية أنَّ اللَّه يحبُّ كلَّ أمينٍ قائمٍ بأمانته شكورٍ لمولاه.