تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 27

وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالۡحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ ﴿ۙ۲۷﴾
اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے، وہ تیرے پاس پیدل اور ہر لاغر سواری پر آئیں گے، جو ہر دور دراز راستے سے آئیں گی۔ En
اور لوگوں میں حج کے لئے ندا کر دو کہ تمہاری پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور دراز رستوں سے چلے آتے ہو (سوار ہو کر) چلے آئیں
En
اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے لوگ تیرے پاس پا پیاده بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی اور دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْ٘حَجِّ یعنی حج کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے اور ان کو حج کی دعوت دیجیے، نیز قریب اور دور کے رہنے والے تمام لوگوں کو حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کی تبلیغ کیجیے کیونکہ جب آپ ان کو حج کی دعوت دیں گے تو حج کے ارادے سے آپ کے پاس آئیں گے اور اس گھر کو آباد کرنے کے شوق میں پیدل چل کر آئیں گے ﴿ وَّعَلٰى كُ٘لِّ ضَامِرٍ لاغر اونٹنیوں پر مسلسل سفر کرتے ہوئے، صحراؤں اور بیابانوں کو چیرتے ہوئے سب سے زیادہ شرف کے حامل اس مقام پر پہنچیں گے ﴿ مِنْ كُ٘لِّ فَ٘جٍّ عَمِیْقٍ دوردراز کی تمام راہوں سے۔ یعنی لوگ تمام دور دراز کے شہروں سے پہنچیں گے۔
حضرت خلیل علیہ السلام نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی۔ دونوں مقدس ہستیوں نے لوگوں کو اس گھر کے حج کی دعوت دی، ان دونوں نے ابتداء کی اور اس کا اعادہ کیا اور وہ مقصد حاصل ہو گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا… اور لوگ مشرق و مغرب سے پیدل اور سوار ہو کر بیت اللہ کی زیارت کے لیے پہنچے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأذِّنْ في الناس بالحجِّ}؛ أي: أعلِمْهم به، وادْعُهم إليه، وبلِّغْ دانِيَهم وقاصِيَهم فرضَه وفضيلتَه؛ فإنَّك إذا دعوتَهم؛ أتوْك حُجاجاً وعماراً. {رجالاً}؛ أي: مشاة على أرجلهم من الشوق، {وعلى كلِّ ضامرٍ}؛ أي: ناقة ضامرٍ تقطع المهامةَ والمفاوِزَ، وتواصِل السير حتى تأتي إلى أشرف الأماكن، {من كلِّ فجٍّ عميقٍ}؛ أي: من كلِّ بلدٍ بعيدٍ.

وقد فعل الخليلُ عليه السلام ثم مِنْ بعدِهِ ابنُه محمدٌ - صلى الله عليه وسلم -، فدعيا الناس إلى حجِّ هذا البيت، وأبْدَيا في ذلك وأعادا، وقد حَصَلَ ما وَعَدَ اللَّه به؛ أتاه الناس رجالاً وركباناً من مشارق الأرض ومغاربها.