جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اس سے غافل ہوجائے گی جسے اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشے میں دیکھے گا، حالانکہ وہ ہرگز نشے میں نہیں ہوں گے اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔
En
(اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اُس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی۔ اور تمام حمل والیوں کے حمل گر پڑیں گے۔ اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے۔ بےشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے
جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے، حاﻻنکہ درحقیقت وه متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے فرمایا: ﴿ یَوْمَتَرَوْنَهَاتَذْهَلُكُ٘لُّمُرْضِعَةٍعَمَّاۤاَرْضَعَتْ ﴾”جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پلاتے بچے کو بھول جائے گی۔“ حالانکہ دودھ پلانے والی ماں کی جبلت میں اپنے بچے کی محبت رچی بسی ہوتی ہے، خاص طور پر اس حال میں جبکہ بچہ ماں کے بغیر زندہ نہ رہ سکتا ہو۔ ﴿وَتَ٘ضَعُكُ٘لُّذَاتِحَمْلٍحَمْلَهَا﴾ یعنی شدت ہول اور سخت گھبراہٹ کے عالم میں ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ ﴿ وَتَرَىالنَّاسَسُكٰ٘رٰىوَمَاهُمْبِسُكٰ٘رٰى ﴾ یعنی اے دیکھنے والو! تم سمجھو گے کہ لوگ شراب کے نشہ میں مدہوش ہیں، حالانکہ وہ شراب نوشی کی وجہ سے مدہوش نہ ہوں گے ﴿ وَلٰكِنَّعَذَابَاللّٰهِشَدِیْدٌ ﴾”بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی بڑا سخت ہو گا“ جس کی وجہ سے عقل ماری جائے گی، دل خالی ہو کر گھبراہٹ اور خوف سے لبریز ہو جائیں گے، دل اچھل کر حلق میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں خوف سے کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ اس روز کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے بدلہ دینے والا ہو گا۔ ﴿ یَوْمَیَفِرُّالْ٘مَرْءُمِنْاَخِیْهِۙ۰۰وَاُمِّهٖوَاَبِیْهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖوَبَنِیْهِؕ۰۰لِكُ٘لِّامْرِئٍمِّؔنْهُمْیَوْمَىِٕذٍشَاْنٌیُّغْنِیْهِؕ۰۰﴾ (عبس:80؍34-37) ”اس روز بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، اپنی بیوی اور بیٹوں سے، اس روز ہر شخص ایک فکر میں مبتلا ہو گا جو اس کو دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گی۔“ وہاں ﴿یَعَضُّالظَّالِمُعَلٰىیَدَیْهِیَقُوْلُیٰلَیْتَنِیاتَّؔخَذْتُمَعَالرَّسُوْلِسَبِیْلًا۰۰یٰوَیْلَتٰىلَیْتَنِیْلَمْاَتَّؔخِذْفُلَانًاخَلِیْلًا ﴾ (الفرقان:25؍27۔28) ”ظالم مارے پشیمانی اور حسرت کے اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور پکار اٹھے گا، اے کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔“ اس وقت کچھ چہرے سیاہ پڑ جائیں گے اور کچھ چہرے روشن ہوں گے۔ ترازوئیں نصب کر دی جائیں گی جن میں ذرہ بھر نیکی اور بدی کا بھی وزن کیا جا سکے گا۔ اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے اور ان کے اندر درج كيے ہوئے تمام اعمال، اقوال اور نیتیں، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سامنے ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط کو نصب کر دیا جائے گا۔ جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی اور جہنم کو گمراہ لوگوں کے سامنے کر دیا جائے گا ﴿اِذَارَاَتْهُمْمِّنْمَّكَانٍۭؔبَعِیْدٍسَمِعُوْالَهَاتَغَیُّظًاوَّزَفِیْرًا۰۰وَاِذَاۤاُلْقُوْامِنْهَامَكَانًاضَیِّقًامُّقَرَّنِیْنَدَعَوْاهُنَالِكَثُبُوْرًا﴾ (الفرقان:25؍12۔13) ”جب وہ جہنم کو دور سے دیکھیں گے تو اس کی غضبناک آواز اور اس کی پھنکار سنیں گے اور جب ان کو جکڑ کر جہنم کی کسی تنگ جگہ میں پھینک دیا جائے گا تو وہاں اپنی موت کو پکارنے لگیں گے“ ان سے کہا جائے گا ﴿لَاتَدْعُواالْیَوْمَثُبُوْرًاوَّاحِدًاوَّادْعُوْاثُبُوْرًاكَثِیْرًا ﴾ (الفرقان:25؍14) ”آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کا پکارو۔“ اور جب وہ اپنے رب کو پکاریں گے کہ وہ ان کو وہاں سے نکالے تو رب تعالیٰ فرمائے گا۔ ﴿اخْسَـُٔوْافِیْهَاوَلَاتُكَلِّمُوْنِ ﴾ (المؤمنون:23؍108) ”دفع ہو جاؤ میرے سامنے سے پڑے رہو جہنم میں اور میرے ساتھ کلام نہ کرو“ رب رحیم کا غضب ان پر بھڑک اٹھے گا اور وہ ان کو دردناک عذاب میں ڈال دے گا، وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی مفقود نہیں ہو گا۔
یہ تو ہو گا کفار کا حال اور متقین کو جنت کے باغات میں خوش آمدید کہا جائے گا۔ وہ انواع و اقسام کی لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے، جہاں جی چاہے گا وہاں ہمیشہ رہیں گے۔پس عقل مند شخص، جو جانتا ہے کہ یہ سب کچھ پیش آنے والا ہے تو اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اس کے لیے تیاری کر رکھے، مہلت اسے غفلت میں مبتلا نہ کر دے کہ وہ عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ تقویٰالٰہی اس کا شعار، خوف الٰہی اس کا سرمایہ اور اللہ کی محبت اور اس کا ذکر اس کے اعمال کی روح ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {يوم تَرَوْنَها تذهلُ كلُّ مرضعةٍ عمَّا أرضعتْ}: مع أنَّها مجبولةٌ على شدَّةِ محبَّتها لولدِها، خصوصاً في هذه الحال التي لا يعيش إلاَّ بها، {وتضعُ كلُّ ذات حَمْل حَمْلَها}: من شدَّة الفزع والهول، {وَتَرى الناسَ سُكارى وما هم بِسُكارى}؛ أي: تحسبُهم أيُّها الرائي لهم سكارى من الخمر، وليسوا سكارى.
{ولكنَّ عذابَ الله شديدٌ}: فلذلك أذهَبَ عقولَهم، وفَرَّغَ قلوبَهم، وملأها من الفزع، وبلغت القلوب الحناجرَ، وشخصتِ الأبصار، [و] في ذلك اليوم لا يَجْزي والدٌ عن ولدِهِ، ولا مولودٌ هو جازٍ عن والده شيئاً، ويومئذٍ يَفِرُّ المرء من أخيه وأمِّه وأبيه وصاحبتِهِ وفصيلتِهِ التي تؤويه، لكلِّ امرئٍ منهم يومئذٍ شأنٌ يُغنيه، وهناك يعضُّ الظالم على يديهِ يقولُ يا ليتني اتَّخذتُ مع الرسولِ سبيلاً، يا ويلتى ليتني لم أتَّخِذْ فلاناً خليلاً، وتسودُّ حينئذٍ وجوهٌ وتبيضُّ وجوهٌ، وتُنْصَبُ الموازين التي يوزَنُ بها مثاقيلُ الذَّرِّ من الخير والشرِّ، وتُنْشَرُ صحائفُ الأعمال وما فيها من جميع الأعمال والأقوال والنيَّات من صغير وكبيرٍ، ويُنْصَبُ الصراط على متن جهنَّم، وتُزْلَفُ الجنَّةُ للمتقين، وبُرِّزَتِ الجحيمُ للغاوين، إذا رأتْهم من مكانٍ بعيدٍ سمعوا لها تغيُّظاً وزفيراً، وإذا أُلْقوا منها مكاناً ضيِّقاً مقرَّنينَ دَعَوْا هنالك ثُبوراً، ويُقالُ لهم: لا تدعوا اليومَ ثُبوراً واحداً وادْعوا ثُبوراً كثيراً، وإذا نادَوْا ربَّهم ليُخْرِجَهم منها؛ قال: اخسؤوا فيها ولا تكلِّمونِ؛ قد غضب عليهم الربُّ الرحيم، وحَضَرَهُمُ العذابُ الأليم، وأيسوا من كلِّ خير، ووجدوا أعمالهم كلَّها، لم يفقدوا منها نقيراً ولا قِطْميراً.
هذا؛ والمتَّقون في روضات الجناتِ يُحْبَرون، وفي أنواع اللَّذَّات يَتَفَكَّهون، وفيما اشتهتْ أنفسهم خالِدون؛ فحقيقٌ بالعاقل الذي يعرِفُ أنَّ كلَّ هذا أمامه أن يُعِدَّ له عدَّتَه، وأن لا يُلْهِيَهُ الأمل فيتركَ العمل، وأنْ تكون تقوى الله شعاره، وخوفُه دثاره، ومحبَّة الله وذكرُه روح أعماله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔