تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 19

ہٰذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِیۡ رَبِّہِمۡ ۫ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَہُمۡ ثِیَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ؕ یُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُءُوۡسِہِمُ الۡحَمِیۡمُ ﴿ۚ۱۹﴾
یہ دو جھگڑنے والے ہیں، جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جاچکے ، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ En
یہ دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن اپنے پروردگار (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں۔ تو کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے (اور) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا
En
یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرنے والے ہیں، پس کافروں کے لئے تو آگ کے کپڑے بیونت کر کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں کے اوپر سے سخت کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَ٘صْمٰنِ اخْ٘تَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔
﴿یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؔءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔
فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا: ﴿وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم فَصَّلَ هذا الفصل بينهم بقوله: {هذان خصمان اختصموا في ربِّهم}: كلٌّ يدعي أنه المحقُّ. {فالذين كفروا}: يشمل كلَّ كافر من اليهود والنصارى والمجوس والصابئين والمشركين، {قُطِّعَتْ لهم ثيابٌ من نارٍ}؛ أي: يُجعل لهم ثيابٌ من قَطِران، وتُشعل فيها النار؛ ليعمَّهم العذابُ من جميع جوانبهم، {يصبُّ من فوق رؤوسهم الحميمُ}: الماء الحارُّ جدًّا، {يُصْهَرُ به ما في بطونهم}: من اللحم والشحم والأمعاء من شدَّة حرِّه وعظيم أمره. {ولهم مقامعُ من حديدٍ}: بيد الملائكة الغلاظ الشداد تضرِبُهم فيها وتقمعُهم. كلَّما أرادوا أن يَخْرُجوا منها أُعيدوا فيها؛ فلا يُفَتَّرُ عنهم العذاب ولا هُمْ يُنْظَرون، ويقالُ لهم توبيخاً: {ذوقوا عذابَ الحريق}؛ أي: المحرق للقلوب والأبدان.