تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 16

وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّرِیۡدُ ﴿۱۶﴾
اور اسی طرح ہم نے اسے روشن آیات کی صورت میں نازل کیا ہے اور یہ کہ اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ En
اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اُتارا ہے (جس کی تمام) باتیں کھلی ہوئی (ہیں) اور یہ (یاد رکھو) کہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایات دیتا ہے
En
ہم نے اسی طرح اس قرآن کو واضح آیتوں میں اتارا ہے جسے اللہ چاہے ہدایت نصیب فرماتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اسی طرح جب ہم نے اس قرآن عظیم میں تفاصیل بیان کی تو ہم نے اس کو آیات بینات بنایا جو تمام مطالب اور مسائل نافعہ پر دلالت کرتی ہیں لیکن ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ جس کی ہدایت کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اس قرآن کے ذریعے سے ہدایت پالیتا ہے، وہ قرآن کو اپنا راہنما اور مقتدا بنا لیتا ہے اور قرآن کے نور سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ اور جس کی ہدایت اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا اس کے پاس خواہ ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ کبھی ایمان نہیں لاتا، قرآن اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا بلکہ قرآن اس کے خلاف حجت بنے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وكذلك لما فصَّلنا في هذا القرآن ما فصَّلنا؛ جعلناهُ آياتٍ بيناتٍ واضحاتٍ دالاَّتٍ على جميع المطالب والمسائل النافعة، ولكن الهداية بيد الله؛ فمن أراد اللهُ هدايته؛ اهتدى بهذا القرآن، وجعله إماماً له وقدوةً واستضاء بنورِهِ، ومن لم يرِدِ الله هدايته؛ فلو جاءتْه كلُّ آية؛ ما آمن ولم ينفعْه القرآنُ شيئاً، بل يكون حجةً عليه.