تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 12

یَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہٗ وَ مَا لَا یَنۡفَعُہٗ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِیۡدُ ﴿ۚ۱۲﴾
وہ اللہ کے سوا اس چیز کو پکارتا ہے جو اسے نقصان نہیں پہنچاتی اور اس چیز کو جو اسے نفع نہیں دیتی، یہی تو دور کی گمراہی ہے۔ En
یہ خدا کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ فائدہ دے سکے۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے
En
اللہ کے سوا انہیں پکارتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکیں نہ نفع۔ یہی تو دور دراز کی گمراہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَدْعُوْا پکارتا ہے۔ یعنی یہ مرتد ﴿ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَمَا لَا یَنْفَعُهٗ اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو، جو اسے کوئی نقصان دے سکتی ہیں نہ نفع۔ یہ ہر اس معبود باطل کی صفت ہے، جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ معبود باطل اپنے لیے یا کسی اور کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰ٘لُ الْبَعِیْدُ یہ گمراہی بعد میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کیونکہ اس نے اس ہستی کی عبادت سے روگردانی کی جس کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے، جو خود بے نیاز ہے اور بے نیاز کرنے والی ہے… اور اپنے جیسی یا اپنے سے بھی کمتر ہستی کے سامنے سربسجود ہوا جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے مقصد کی ضد کے حصول کے زیادہ قریب ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ یَدْعُوْا لَ٘مَنْ ضَرُّهٗۤ اَ٘قْ٘رَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ وہ اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔ اس لیے کہ اس کا نقصان عقل، بدن، دنیا اور آخرت میں ہے ﴿ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى البتہ برا ہے والی۔ یعنی یہ معبود باطل ﴿ وَلَبِئْسَ الْعَشِیْرُ یعنی بہت برا ہم نشین ہے جس کی صحبت کو اس نے لازم پکڑ رکھا ہے کیونکہ دوست اور ہم نشین سے حصول نفع اور دفع ضرر مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس میں اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو تو وہ قابل مذمت اور قابل ملامت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يدعو}: هذا الراجع على وجهِهِ من دون الله ما لا ينفعُه ولا يضرُّه، وهذا صفة كلِّ مدعوٍّ ومعبودٍ من دون الله؛ فإنه لا يملك لنفسه ولا لغيره نفعاً ولا ضرًّا. {ذلك هو الضلال البعيدُ}: الذي قد بلغ في البعد إلى حدِّ النهاية؛ حيث أعرض عن عبادة النافع الضارِّ الغنيِّ المغني، وأقبل على عبادة مخلوقٍ مثله أو دونه، ليس بيده من الأمر شيء، بل هو إلى حصول ضدِّ مقصوده أقرب، ولهذا قال: {يدعو لَمَن ضَرُّه أقربُ من نفعِهِ}: فإنَّ ضرره في العقل والبدن والدُّنيا والآخرة معلوم. {لبئس المولى}؛ أي: هذا المعبود، {ولبئس العشيرُ}؛ أي: القرين الملازم على صحبته؛ فإنَّ المقصود من المولى والعشير حصول النفع ودفع الضرر؛ فإذا لم يحصل شيءٌ من هذا؛ فإنَّه مذموم ملوم.